عرب دنیا



عرب دنیا
A serving soldier in Lebanon killed his fiance's dentist at his clinic.



Beirut (Web Desk)
 According to the report, Saleem Fahd, a serving Lebanese army sergeant, killed the dentist on the complaint of his fiance. According to the newspaper, the incident took place in the area of ​​'Ablah Al-Farzal' in Lebanon, the police had received information that a person had killed a dentist and the body of the victim was lying in his clinic.
In this regard, CCTV footage also came to light, in which the killer can be seen walking out of the clinic in peace after the incident. She went to the clinic of a dentist named Ali Jasir for treatment. After the treatment, she did not notice any significant difference. She complained to her fiance ڈاکٹر about the doctor and mentioned her problem.

The fianc's complaint was not tolerated by the sergeant and he got angry and rushed to the doctor's clinic, where during the discussion he attacked the doctor with a sharp instrument. According to reports, the doctor was killed on the spot. He was taken into custody and later the soldier was also arrested.


سعودی عرب اور اومان نے بھی غیر ملکی فضائی آپریشن معطل کردیا












The Custodian of the Two Holy Mosques King Salman bin Abdulaziz issued a royal order to reconstitute the Council of Senior Scholars headed by Sheikh Abdulaziz bin Abdullah Al Sheikh.

This came within a number of royal orders; Where the Council of Senior Scholars included 20 members, they are: «Sheikh Saleh Al-Luhaidan, Sheikh Dr. Saleh Al-Fawzan, Sheikh Dr. Abdullah Al Sheikh, Sheikh Dr. Abdullah Al-Turki, Sheikh Abdullah bin Suleiman Al-Manea, Sheikh Dr. Saleh bin Hamid, Sheikh Dr. Muhammad Al-Issa Sheikh Dr. Abdullah Al-Mutlaq, Sheikh Dr. Saad Al-Shathry, Sheikh Abdul Rahman College, Sheikh Saud Al-Mujib, Sheikh Muhammad Al Sheikh, Sheikh Dr. Yusuf bin Saeed, Sheikh Dr. Yaqoub Al-Bahasin, Sheikh Dr. Muhammad Mazyad, Sheikh Dr. Gabriel Al-Busaili, Sheikh Dr. Abdul Salam Al-Suleiman, Sheikh Dr. Ghaleb Hamzi, Sheikh Dr. Sami Al-Suqair, Sheikh Dr. Bandar Belaila ».

The royal orders included the appointment of Sheikh Ghaheb al-Ghaheb as an advisor to the royal court at the rank of minister, Sheikh Khaled al-Luhaidan as president of the Supreme Court with the rank of minister, Dr. Mishaal Al-Salami as deputy head of the Shura Council at the rank of minister, and Dr. Hanan Al-Ahmadi as assistant to the president of the Shura Council at the excellent rank.

It also included the formation of the Shura Council, headed by Sheikh Dr. Abdullah Al Sheikh, and 150 members, for a period of 4 years.

آج سے مسجد الحرام میں عمرہ کی ادائیگی کا مرحلہ وار آغاز




ریاض(آئی-بی-ٹی) سعودی حکومت نے عمرہ اور زیارت پر عائد پابندی ختم کردی آج سے مسجد الحرام میں عمرہ کی ادائیگی کا مرحلہ وار آغاز ہوگیا۔

سعودی عرب نے سات ماہ بعد مرحلہ وار عمرہ کی ادائیگی کی اجازت دی ہے،عمرہ کی اجازت تین مرحلوں میں دی گئی ہے۔ شاہی فرمان کے مطابق ایس او پیز کے تحت پہلا مرحلہ 4 اکتوبر یعنی آج سے شروع ہوگا جس میں 6 ہزار سعودی شہری اور وہاں مقیم غیر ملکی عمرہ کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔

دوسرے مرحلے میں 18 اکتوبر سے روزانہ 15 ہزار معتمرین کو یومیہ عمرے کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔ یکم نومبر سے تیسرے مرحلے کے تحت بیرون ملک سے روزانہ 20 ہزار زائرین عمرے کی سعادت کےلئے آسکیں گے جبکہ ساٹھ ہزار لوگوں کو مسجد الحرام میں نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔

-------------------------------------------------

سعودی عرب میں شوہر یا اہلیہ ایک دوسرے کا موبائل چیک نہیں کرسکتے۔

ریاض (ویب ڈیسک)

سعودی عرب میں شوہر یا اہلیہ ایک دوسرے کا موبائل چیک نہیں کرسکتے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وکیل نایف آل منسی نے کہا ہے کہ اہلیہ کا موبائل چیک کرنا جرم ہے۔ کوئی بھی شوہر اس کا مجاز نہیں۔ قانون نے ایسا کرنے کو جرم قرار دے رکھا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق آل منسی نے اپنی بات کی واضح کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن کرائم قانون کی دفعہ 3 میں بتایا گیا ہے کہ شوہر یا بیوی کسی کا بھی موبائل چیک کرنا جرم ہے۔ کمپیوٹر سیٹس اور سمارٹ آلات کو چیک کرنا منع ہے اور قانون میں یہ حرکت جرم شمار کی جاتی ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شوہر اپنی اہلیہ کا موبائل چیک کرے گا اور اس کے خلاف یہ الزام ثابت ہوگیا تو اسے ایک برس قید اور پانچ لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہوگی۔






سعودی شاہی خاندان کو بڑا صدمہ،معروف شہزادی انتقال 
کرگئیں



لیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادی مداوی بنت عبداللہ بن محمد ابن جلاوی السعود مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئیں، شہزادی کے انتقال کی تصدیق رائل کورٹ کی جانب سے کی گئی۔شہزادی مداوی بنت عبداللہ بن محمد ابن جلاوی السعود کی نماز جنازہ اور تدفین آج رات کی جائے گی۔سعودی شہزادی کے انتقال پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 7 جولائی کے روز سعودی شہزادہ خالد بن سعود بن عبدالعزیز رضائے الہی سے انتقال کرگئے تھے جبکہ  چند روز قبل شہزادہ بندار بن سعد بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کرگئے تھے، شہزادے کی نماز جنازہ اور آخری رسومات سعودی درالحکومت ریاض میں ادا کی گئی تھیں۔قبل ازیں 21 جون کو سعودی شہزادہ بندار بن محمد بن عبدالرحمان بن فیصل السعود 95 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ شہزادے کی نماز جنازہ امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی گئی تھی۔


Ruler Salman admitted to Saudi Arabia Hospital 

RIYADH – Saudi Arabia's King Salman container Abdulaziz Al Saud has been admitted to the King Faisal Specialist emergency clinic for a clinical exam, the Saudi Press Agency gave an account of Monday. 

A Royal Court proclamation on the organization's site uncovered that King Salman had been admitted to the clinic for tests because of "irritation in the gallbladder". 


"The Custodian of the Two Holy Mosques, King Salman — may God ensure him — was conceded this Monday, 29 Dhul Qidah 1441 A.H., stamping July 20, 2020, — to the King Faisal Specialist Hospital in Riyadh to experience a few tests because of an aggravation in the gallbladder. May God ensure the Custodian of the Two Holy Mosques and favor him with wellbeing and health," read the announcement.





Saudi government imposes 24-hour curfew in primary cities to scale down COVID-19 Pandemic


RIYADH - The Saudi authorities has imposed curfew in important cities to prevent spread of coronavirus epidemic.

according to a notification of Saudi Ministry of indoors, the towns where curfew has been imposed also consist of including capital Riyadh, Jeddah, Taif, Qatif, Tabuk, Dammam, Dhahran, Hafouf and Khobar.

The government prolonged the round-the-clock curfew after because the kingdom said four new COVID-19 deaths on Monday, bringing the death toll to 38, even as the entire quantity of showed infections has reached 2,523.

On Thursday, the authorities extended the curfew within the  holy towns of Mecca and Medina to 24 hours till similarly notice.



سعودی فرمانروا کے بھائی سمیت شاہی خاندان کے 3 افراد گرفتار، بغاوت کا الزام، تفصیلات سامنے آگئیں



ریاض   سعودی عرب میں شاہی خاندان کے تین سینئر افراد کو  گرفتار کر لیا گیا، ان افراد کو بغاوت کے الزام میں پکڑا گیا، دی گارڈین کے مطابق گرفتار افراد پر سعودی بادشاہ اور ولی عہد کیخلاف سازش کاالزام ہے ، اس کارروائی سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی ۔
امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا   شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز السعود اور شہزادہ محمد بن نائف کو جمعہ کی صبح رائل گارڈز نے گھروں سے حراست میں لیا گیا ہے، ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جوڑی سعودی حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کرنے کیلئے سازش کررہی تھی، میڈیا رپورٹس میں  شہزادہ نائف کے چھوٹے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو بھی گرفتار کیے جانے کا بتایا گیا، ان گرفتاریوں کا تعلق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے شہزادوں کو حراست میں لیے جانے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یاد رہے کہ اس قبل 2017 میں بھی محمد بن سلمان کے احکامات پر سعودی شاہی خاندان کے کئی اراکین اور وزرا کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف کو بھی عہدے سے ہٹا کر نظر بند کر دیا گیا تھا۔محمد بن سلمان نے سال 2016 میں سعودی عرب میں متعدد اقتصادی اور سماجی اصلاحات کرنے کا عزم کیا تھا جس پر انہیں پہلی بار سب سے زیادہ پذیرائی ملی تھی تاہم وہ اب تک کئی تنازعات کی زد میں آ چکے ہیں جن میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا استنبول میں سعودی سفارت خانے میں قتل شامل ہے۔

2017 میں بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن کے عمل پر تنقید کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی شہزادے خالد بن طلال کو تقریبا ایک سال بعد نومبر 2018 میں رہا کیا گیا تھا، وہ شاہ سلمان کے بھتیجے ہیں۔

1-12-2020  Sure Touch

Thai lottery results today  







سعودی عرب         ریاض
سعودی عرب کے جازان ریجن میں دوران نماز ایک امام مسجد پر چاقوسے حملہ کردیا گیاجس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔اردونیوز نے عرب ویب سائٹ سبق کے حوالے سے بتایا ہے کہ جازان ریجن کی بیش کمشنری کی جامع مسجد ’طناطن‘ کے امام کو نماز کے دوران چاقو سے زخمی کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔امام کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں ان کی حالت قدرے بہتر بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب مسجد میں جمعہ نماز ہورہی تھی اور امام دوسری رکعت میں تھے۔حکام کے مطابق حملہ آورنفسیاتی مریض ہے۔ تاہم اسے گرفتار کرکے اس سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملزم اسی قصبے کا رہائشی ہے اور کافی عرصے سے نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج تھا۔





دبئی (انفرمیشنبکس ڈاٹ کام) متحدہ عرب امارات کی ایک ٹیلی کام کمپنی کی سابق ملاز مہ پر ایک اعشاریہ 4 ملین درہم (5 کروڑ 90 لاکھ روپے) مالیت کے 496 سمارٹ فون چرانے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔
گلف نیوز کے مطابق موبائل فون چرانے والی 31 سالہ خاتون کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے بطور سیلز گرل کام کے دوران کاغذات میں ہیر پھیر کے ذریعے موبائل فون چوری کیے۔ دبئی کی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاتون نے جنوری 2014 سے ستمبر 2015 کے دوران موبائل فون چوری کیے۔
کمپنی کو پہلے تو ان چوریوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہوئی لیکن جب انٹرنل آڈٹ ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ 92 گاہکوں نے قسطیں ادا نہیں کیں۔ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے آڈیٹر نے بتایا کہ جن گاہکوں نے موبائل فون خریدے تھے ان کا کوئی ریکارڈ سسٹم میں موجود نہیں تھا، ان لوگوں کو موبائل فونز پاکستانی خاتون کے یوزر نیم اور پاسورڈ کے ذریعے بیچے گئے تھے، وہ اس بات کی ذمہ دار تھی کہ گاہکوں کا ڈیٹا سسٹم میں ڈالتی اور سم کارڈ کو ایکٹیویٹ کرتی۔

بعد ازاں مزید تحقیقات ہوئیں تو یہ بات سامنے آئی کہ خاتون نے اپنی چوری چھپانے کیلئے 286 کسٹمرز کا جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کیا۔ عدالت میں خاتون پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے تاہم اس نے الزامات قبول کرنے سے انکار کیا ہے، کیس کی مزید سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔


Ukrainian airplane with 180 aboard crashes in Iran: Media Braking News
09:21 AM | 8 Jan, 2020



TEHRAN - A Ukraine International Airline's Boeing 737 has crashed due to technical problems after take-off from Iran’s Imam Khomeini airport with 180 passengers and crew aboard, the semi-official Fars news agency tweeted on Wednesday.

The plane had taken off from Imam Khomeini International Airport, the report said. The crash is suspected to have been caused by mechanical issues, it added, without elaborating.

An investigation team was at the site of the crash in southwestern outskirts of Tehran, civil aviation spokesman Reza Jafarzadeh said.

“After taking off from Imam Khomeini international airport it crashed between Parand and Shahriar,” Jafarzadeh said. “An investigation team from the national aviation department was dispatched to the location after the news was announced.”

State TV earlier said there were 180 passengers and crew aboard. The discrepancy could not be immediately reconciled.

Flight data from the airport showed a Ukrainian 737-800 flown by Ukraine International Airlines took off Wednesday morning, then stopped sending data almost immediately afterward, according to website FlightRadar24. The airline did not immediately respond to a request for comment.

There was no further information immediately available about casualties or damaged.




01:56 PM | 4 Jan, 2020,

in line with the reports, the worldwide criminal Police organisation’s (Interpol) cellular inside the nation had arrested the brother of Qandeel Baloch to address worldwide crime, the arrests made on the Pakistani authorities’s 2016 request to Saudi Arabia. Muzaffar Iqbal accused of helping and abetting in Qandeel’s homicide.

In 2016, Qandeel’s brother, Waseem, had strangled her to death at her residence in Punjab. Qandeel’s father Muhammad Azeem Baloch, had lodged a murder case against his son.

In September 2019, a version courtroom had sentenced the version’s brother, Waseem Khan, to life in prison for murdering his sister. He had on document admitted to drugging and killing his sister whilst he changed into offered before a special magistrate.

live tuned to every day Pakistan global for more news and updates.




ریاض(این این آئی) سعودی پولیس نے پہاڑیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم 80 پاکستانیوں کو گرفتارکرلیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مکہ پولیس نے 80 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا ہے جو شہر کی پہاڑیوں میں غیرقانونی طور پر مقیم تھے،  
 اور ان افراد نے پہاڑوں میں جھگیاں بنا رکھی تھیں اور وہ قانون کی نظر سے چھپ کرپہاڑوں پر چھپر اور جھگیاں بنا کر رہنے کے ساتھ کعکیہ کی سبزی منڈی میں چھوٹے موٹے کام کر کے گزر بسر کرتے تھے۔مکہ پولیس کا کہنا ہے کہ کعبہ کے قریب پہاڑوں پر چھپنے والے غیر قانونی تارکین کو گرفتار کرنا مسئلہ تھا کیوں کہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے وہ پولیس کو دیکھ کر فرار ہوجاتے تھے اور بسا اوقات اہلکاروں پر پتھرائو بھی کرتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق غیر قانونی تارکین کی گرفتاری کیلئے منظم منصوبہ تیار کی گئی اور انہیں دن کی روشنی کی روشنی کے بجائے رات کی تاریکی میں کارروائی کا منصوبہ بنایا گیا جبکہ حکمت عملی کے تحت پہاڑوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا اور فرار ہونے کے تمام راستوں پر اہلکار تعینات کردیئے گئے، انتہائی کامیاب کارروائی کے نتیجے میں تمام غیر قانونی افراد گرفتار ہوئے جن کی تعداد 80 کے قریب ہے۔




سعودی عرب میں 13 پاکستانی گرفتار، ریاست میں کیا شرمناک دھندا کررہے تھے؟ افسوسناک خبرآگئی


ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں بینک کی جانب سے کوائف کو اپ ڈیٹ کرنے کا جعلی ٹیکسٹ میسج بھیج کر صارفین کو ان کی رقم سے محروم کرنے والے 13 پاکستانیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق پولیس نے دو الگ الگ کارروائیوں میں دھوکے سے صارفین کی بینک معلومات حاصل کرکے رقم چرانے والے گروہ کے 13 کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں سے 9 افراد کو مکہ اور 4 کو قصیم سے حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد پاکستانی شہری ہیں۔یہ منظم گروہ انعامی رقم اور بینک اکانٹ کی تجدید سے متعلق جعلی میسیجز صارفین کے موبائل نمبر پر بھیجا کرتا تھا اور اس طرح دھوکے سے صارفین سے بینک کی معلومات حاصل کرکے انہیں رقم سے محروم کردیا کرتا تھا۔ شہریوں کی جانب سے مسلسل شکایت کے بعد چھاپہ مار کارروائی عمل میں لائی گئی۔

اس حوالے سے ریجن پولیس چیف نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں کی عمریں 30 سے 60 سال کے درمیان ہیں، جن سے لوٹی گئی رقم، متعدد موبائل فون، سم کارڈز، کمپیوٹرز اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں۔ یہ گروہ سادہ لوح صارفین کو انعام کا لالچ دیکر بھی معلومات حاصل کرلیا کرتا تھا۔ دو برس سے پولیس اور سائبر کرائم اس گروہ کے تعاقب میں تھا۔


جدہ کی ساحلی حدود میں ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے پر سعودی عرب بھی میدان میں آگیا، واضح موقف دیدیا



ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں سعودی عرب کی سمندری حدود میں جدہ کے ساحل سے محض 60میل کے فاصلے پر ایک ایرانی آئل ٹینکر کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اب اس معاملے پر سعودی عرب کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ہم اس ایرانی آئل ٹینکر کی مدد کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے تیار تھے مگر آئل ٹینکر کے عملے نے جہاز کا ٹریکنگ سسٹم ہی بند کر دیا جس کے باعث ہم اس کی مدد کو نہ پہنچ سکے۔

آفیشل سعودی پریس ایجنسی نے بارڈر گارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ”ایرانی آئل ٹینکر کے کپتان کی طرف سے ایک ای میل سعودی بارڈر گارڈز کو موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ جہاز کے اگلے حصے میں دو دھماکے ہوئے ہیں اور وہ حصہ تباہ ہو گیا ہے جس سے تیل سمندر میں گرنا شروع ہو گیا ہے۔سعودی کوارڈی نیشن سنٹر نے اس اطلاع کا جائزہ لیا اور ضروری امداد پہنچانے کی تیاری کی لیکن تب تک جہاز نے سنٹر کی کالز کا جواب دیئے بغیر اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر لیا۔

اس معاملے پر ایران کی طرف سے بھی ایک اپ ڈیٹ آئی ہے۔ عالمی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ اس ایرانی بحری جہاز پر حملہ سعودی سرزمین سے کیا گیا۔ نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی نے ان خبروں کی یکسر تردید کر دی ہے۔ متاثرہ آل ٹینکر اس کمپنی کی ملکیت تھا۔ کمپنی نے کہا ہے کہ ”جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ۔“دوسری طرف سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ”آئل ٹینکر پر حملے کے ذمہ داروں کا پتا چلا لیا گیا ہے اور ہم اس واقعے کو یونہی فراموش نہیں کر دیں گے۔

سعودی عرب اور یو اے ای میں برطرف 3 ہزار پاکستانی ڈاکٹروں کیلئےخوشخبری، حکومت پاکستان نےاہم قدم اٹھا لیا



کراچی

 سعودی عرب اور یو اے ای میں ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل تین ہزار پاکستانی ڈاکٹروں کی برطرفی پر ڈاکٹروں نے حکومت پاکستان سے نوٹس لیتے اور دونوں حکومتوں سے رابطہ کرکے ڈاکٹروں کو بحال کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر محمد عارف، پروفیسر خلیل احمد گل، پروفیسر نعیم الحق پروفیسر مصطفی قائم خانی، پروفیسر سید شاہد نور، عباس حسین، اطہر صدیقی اور دیگر نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل اسپیشلائزڈ ڈاکٹر گزشتہ 15 سال سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے، اس عرصے کے دوران دونوں ملکوں کی حکومتوں کو ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوا لیکن اب اچانک ہی سعودی کمیشن فار ہیلتھ اسپیشلٹیز اور دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایم ڈی اور ایم ایس کی ڈگری کے حامل 3 ہزار سے زائد پاکستانی ڈاکٹروں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی اور یواے ای کی حکومتوں کے مطابق یہ ڈاکٹرز کوالیفائیڈ نہیں ہیں ایسا کہنا ان کی تذلیل کے مترادف ہے، اس عمل سے پاکستان کے ساتھ اس ادارے کا وقار بھی مجروح ہوا ہے جہاں سے ان ڈاکٹروں نے ڈگریاں حاصل کیں، ہم مذکورہ اداروں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایم ڈی، ایم ایس کی اسناد ہمارے ملک کی اعلیٰ جامعات سے جاری کی جاتی ہیں اور ان کی حیثیت پر سوال اٹھانا ہمارے تدریسی نظام کی ہتک کے مترادف ہے۔ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ اگر سیاسی وجوہات کی بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا تو حکومت پاکستان فوری طور پر ان دونوں ممالک کی حکومتوں سے رابطہ کرے اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کی جائیں، تین ہزار ڈاکٹرز کی برطرفی ان کے معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔

”کشمیر میں کرفیوکے تین ہفتے اور امہ کی کارروائی! “






متحدہ عرب امارات 

نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو ملک کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے نواز دیا ہے ۔ متحدہ
 عرب امارات کا ”زید “نامی یہ ایوارڈ خود ولی عہد محمد بن زایدنے اپنے دست مبارک سے مودی کے گلے میں پہنا کر جمہوریت اور عالمی امن کیلئے ان کی خدمات کا اعتراف کرکے گویا ان کو مقبوضہ کشمیر میں اپنی پرامن سرگرمیاں جاری رکھنے کی آشیر باد دی ہے ۔ محمد بن زید نے مودی کو یہ ایوارڈ دینے کا اعلان رواں برس ان کی خدمات کے اعتراف میں کیا تھا جو شائد کچھ ماہ بعد مودی کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں وقوع پذیر ہونیوالی تھیں۔ولی عہد محمد بن زایدنے کہا تھا کہ امارات کے بھارت کے ساتھ تاریخی اور سٹریٹیجک تعلقات ہیں جن کو مزید مضبوط کرنے میں پیارے دوست مودی کا بڑا ہاتھ ہے ۔امارات کے اس سب سے بڑے سول ایوارڈ ”زید میڈل“‘ سے اب تک برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ ، روسی صدر پوٹن اور چین کے صدر سمیت کئی عالمی رہنماﺅں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نوازاجاچکاہے ۔








یواے ای کی جانب مودی کی خدمات کا بجا طور پر اعتراف کئے جانے کے بعد پاکستان کے عوام امہ کی اس حرکت پر شدید چیں بہ چیں ہیں جبکہ حکمران بھی اس ناراضی میں اپنا تھوڑابہت حصہ ڈال رہے ہیں جیسے ہمارے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے عرب امارات کا دورہ احتجاجاً منسوخ کرکے دیگر قائدین ملک وملت پر سبقت لے گئے ہیں ۔ ان کا یہ کہنابجا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میرے کشمیری بہن بھائی محصور ہوں اور میں ان حالات میں یو اے ای کا دورہ کروں، دورہ پہلے سے طے شدہ تھا تاہم مودی کو ایوارڈ ملنے کے بعد وہاں میرا جانا اور یو اے ای حکام سے ملنا مناسب نہیں تھا ۔ چیئر مین سینیٹ نے یہ کہہ کر پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کردی ہے البتہ ایک دو دن بعد اس پر غور کیا جاسکتاہے ۔



ایسے میں اپنے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری جواپنی حقیقت بیانی اورشعلہ بیانی کے باعث اندرون ملک ایک خاص پہچان رکھتے ہیں نے صاف کہہ دیاہے کہ ایسی لیڈرشپ کا کیا فائدہ جو اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی؟البتہ اس کے ساتھ ان کی جانب سے یہ بات بھی کردی گئی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ملک کشمیریوں کا درد محسوس نہیں کرتا تو کیا کہا جا سکتا ہے؟ وہ اور کہہ بھی کیا سکتے ہیں ؟ آخر ہم پاکستانی جنہوں نے ستر سالوں سے امہ کے درد کا ٹھیکہ لے رکھا پتہ نہیں اس سے کیا امید رکھتے ہیں؟ اگرچہ فواد چودھری کابیان بہت برمحل ہے کہ اس قیادت کا کیا فائدہ جو کشمیریوں کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی تو وزیر محترم کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض ہے کہ حضور یہ قیادت تو آج تک اپنے فلسطینی عرب بھائیوں کے ساتھ کھڑ ی نہیں ہوسکی ، کشمیریوں کے ساتھ کیا کھڑ ی ہوگی اور کھڑی ہوبھی گئی تو کون ساتیر مار لے گی ؟ ان کوبس مودی وغیر ہ کوایوارڈ دیتے ہی رہنے دیں۔



وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس نازک موقع پرپاکستانی قوم کوحوصلہ دیاہے اور کہا کہ امہ کے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات ہیں۔ ہم کو بین الاقوامی تعلقات کا معاملہ جذبات سے بالاتر ہوکر دیکھناہوگا ۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کادوست ملک ہے ، امید ہے یو اے ای پاکستان کومایوس نہیں کرے گا۔ انہوں نے قوم کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ بہت جلد یواے ای کے وزیر خارجہ سے مل کرحقائق پیش کریں گے ۔ وزیر خارجہ کی اس بات سے عام پاکستانیوں کی دھاڑس بندھی ہے کہ شائد شاہ صاحب کی اماراتی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد امہ کے دل میں کشمیری مسلمانوں کے لئے دبی ہوئی رحم کی کوئی چنگاری پھوٹ پڑے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی صورت نکل آئے کیونکہ اس نازک وقت میں جب مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے کرفیوکانفاذ کئے تین ہفتے گزر چکے ہیں امہ کی حمایت بہت ضروری ہے اور وقت کا تقاضہ بھی ہے ۔



بڑے عرب ملک میں ملازمت نہ ملنے پر پی ایچ ڈی 
اسکالرنے چوریاں شروع کردیں




ابو ظہبی(ویب ڈیسک) پی ایچ ڈی اسکالر نے عدالت میں بیان دیا کہ خراب مالی حالات اور ملازمت نہ ملنے کے باعث چوری کرنے پر مجبور ہوا۔اے آر وائی نیوز کے مطابق سیاحتی ویزہ پر متحدہ عرب امارت کا دورہ کرنے والے پی ایچ ڈی اسکالر کو اماراتی کورٹ نے چوری، تشدد اور خود کو پولیس والا ظاہر کرنے کے الزام میں ٹرائل پر بھیج دیا، ملزم نے موبائل فونز چوری کرنے کےلیے لوگوں کے ہجوم پر اعصابی گیس کا بھی استعمال کیا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ عرب شخص نے ہمارے پاس آکرراس الخیمہ کے پولیس افسر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا اور جب لوگوں نے عربی سے پولیس آئی ڈی کارڈ دکھانے کاسوال کیا تو مذکورہ شخص نے ہم پر حملہ کردیا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ملزم نے ہم پر اعصابی گیس کا اسپرے کیا اور تین موبائل فون لےکر فرار ہوگیا۔اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ راس الخیمہ پولیس نے واقعے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا بعد از گرفتاری ملزم نے اعتراف جرم کیا۔زیر حراست ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کے پاس سوائے چوری کے کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔مقامی میڈیا کا کہنا تھا پی ایچ ڈی اسکالر نے عدالت میں اپنے اوپر بنائے گئے چوری، جعلی پولیس افسر بننے اور اعصابی گیس کا حملہ کرنے کے الزامات کو درست قرار دیا۔مدعی نے شکایت کنندہ سے معافی مانگتے ہوئے کیس واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے اہلخانہ کا واحد کفیل ہوں اور گھر میں ہنگامی صورتحال کےباعث واپس جانے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی‘۔ملزم نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور دعویٰ کیا کہ’ وہ ایک عزت دار شخص ہے جس نے پی ایچ ڈی بھی کررکھی ہے‘۔ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ وزٹ ویزے پر امارات آیا تھا اور ریاست راس الخیمہ مقیم اپنے کچھ دوستوں کے پاس رک گیا تاکہ کوئی مناسب سی ملازمت تلاش کرسکے۔اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عدالت نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔



لبیک اللھم لیبک، لاکھوں فرزندان توحید کا مزدلفہ میں قیام،آج نماز فجر کے بعد منی روانگی
11اگست 2019



مکہ مکرمہ
آج لاکھوں فرزندان توحید لبیک اللھم لیبک کی صدائیں بلند کرتے ہوئےمیدان عرفات میں حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے بعد مزدلفہ پہنچ گئے،حجاج  میدان عرفات میں سورج غروب ہونے تک عبادات میں مصروف رہے اور دعائیں کیں،آج  نماز  فجر کے بعد  لاکھوں عازمین  حج منیٰ  روانہ ہوں گے اور منی پہنچ کر رمی اور سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا عظیم  فریضہ سرانجام دیں گے ،دوسری طرف خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے فراہم کی جانیوالی خدمات کا جائزہ لینے منی پہنچ گئے۔

سعودی میڈیا کے مطابق لاکھوں  عازمین حج  پیدل  قافلوں کی صورت میں ،بسوں اور ٹرین کے ذریعے میدان عرفات سے رات گئے تک مزدلفہ پہنچ چکے ہیں جبکہ  حجاج نے مزدلفہ پہنچ کر رمی کے لیے کنکریاں چنیں اور رات بسر کی جبکہ  آج نماز فجر کے   بعد  حجاج کرام سورج طلوع ہونے تک مناجات کریں گے اور پھر منیٰ  کی طرف روانہ ہوں گے اور منی پہنچ کر رمی اور سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے لاکھوں جانور اللہ کی راہ میں قربان کریں گے ،حجاج کرام پیر اور منگل کو بھی رمی کریں گے، منیٰ میں آبا د خیموں کے شہر کے لئے تمام تر انتظامات مکمل ہیں  جبکہ عازمین حج کی سہولت کے لئے سعودی حکومت کی جانب سےسکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں ۔


 خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے فراہم کی جانیوالی خدمات کا جائزہ لینے منی پہنچ گئے  جہاں  انہوں   نے دنیا بھر سے آنے والے  حجاج کرام کے لئے سہولتوں  کا جائزہ لیا ۔دوسری جانب جمرات پل کی انتظامیہ نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اعلان کیا ہے کہ حجاج کرام کو سامان سمیت پل تک جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حج کے منصوبے کے مطابق حجاج مزدلفہ سے منیٰ آکر پہلے اپنے خیموں میں جائیں گے جہاں وہ اپنا سامان رکھیں گے پھر پروگرام کے مطابق اپنے طے شدہ وقت پر رمی کے لئے نکلیں گے ۔  سعودی وزارت حج کی جانب سے منیٰ میں مختلف مقامات پر اردو ، انگلش ، عربی اور دیگر زبانوں میں بورڈز نصب ہیں جن پر حجاج کے لئے ہدایات درج کی گئی ہیں۔سعودی وزارت صحت نے بھی مشاعر مقدسہ (منی ،مزدلفہ اور عرفات ) میں تمام ہسپتالوں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کر کے کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدات کی ہے۔ مرکزی ہسپتالوں کے علاوہ صحت مراکز اور موبائل امدادی ٹیمیں دن بھر کام کرتی رہیں، ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے منیٰ اور عرفات میں ہسپتالوں نے بھرپور تیاریاں کررکھی ہیں۔


دوسری طرف پہلی  مرتبہ منیٰ میں حجاج کے قیام کے لیے سعودی حکومت نے جدید سہولتوں سے آراستہ مستقل خیمہ بستی قائم کردی ہے ،یہ خیمہ بستی منیٰ سے مزدلفہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان خیموں میں حجاج کی سہولت کے لیے ائیر کنڈیشنرز بھی لگائے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مختلف علاقوں سے خیمہ بستی تک عازمین حج کو بسوں اور ٹرین کے ذریعے پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے البتہ منیٰ کے نزدیک علاقے میں مقیم عازمین پیدل بھی اپنے خیموں تک جاسکتے ہیں۔ منیٰ کو مختلف مکاتب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان مکاتب کے ذمے دار معلمین نے عازمین حج کو روانگی سے قبل منیٰ میں قیام کے لیے رہ نما ہدایات جاری کر دی ہیں۔




لاکھوں عازمین آج حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے
Aug 10, 2019



مکہ مکرمہ 
 سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا اور دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین حج منیٰ پہنچ گئے جہاں خیموں کا شہر آباد کر دیا گیا۔سعودی میڈیا کے مطابق رواں سال دنیا بھر سے لگ بھگ 25 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ رواں برس سب سے زیادہ ا ڑھائی لاکھ عازمین حج انڈونیشیا سے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 2 لاکھ پاکستانی عازمین ہیں۔ عازمین آج میدان عرفات روانہ ہوں گے اور حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے، مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد نماز ظہر اور نماز عصر ایک ساتھ ادا کریں گے۔
اسی روز عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہو گا۔ یہ قبولیت کی وہ ساعتیں ہیں جن میں کی گئی کوئی دعا اللہ رب العزت رد نہیں کرتے، اس لئے عصر اور مغرب کے درمیان حجاج کرام اللہ رب العزت کے حضور گڑگڑا کر خصوصی دعائیں کرتے ہیں۔ سورج غروب ہوتے ہی میدان عرفات کو فوری طور پر چھوڑنے کا حکم ہے اس لئے حجاج کرام میدان عرفات کی حدود سے فوری طور پر مزدلفہ کا رخ کرینگے۔ مزدلفہ میں شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں چننے کے ساتھ ساتھ رات کھلے آسمان تلے قیام کریں گے اور مزدلفہ میں ہی نماز مغرب اور نماز عشا ایک ساتھ ادا کریں گے۔

رات کھلے آسمان تلے قیام کے بعد نماز فجر کی ادائیگی کے بعد منیٰ پہنچیں گے جہاں شیطان کو کنکریاں مارنے اور قربانی کے بعد بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔ اسی طرح 11 ذوالحج کو بھی تینوں شیطانوں کو بھی کنکریاں مارنے کا حکم ہے۔ 12 ذوالحج کو آخری دن شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام مکہ المکرمہ واپس جا سکتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی سعودی حکام نے فرزندان اسلام کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی ہیں تاکہ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔



مکہ مکرمہ میں غلاف کعبہ تبدیل کرنے کی روح پرور تقریب
Aug 10, 2019



مکہ مکرمہ
 مکہ مکرمہ میں غلاف کعبہ تبدیل کرنے کی روح پرور تقریب ہوئی، غلاف کعبہ کی تیاری میں تقریباً 670 کلو گرام ریشم استعمال ہوا، 120 کلو سونا اور 100 کلو چاندی استعمال کی کئی۔مکہ مکرمہ میں ہونیوالی تقریب میں کلید بردار کعبہ، منتظمین، سعودی حکام اور غلاف ساز کسوہ فیکٹری کے ذمہ دار شریک ہوئے۔ غلاف کعبہ کی تیاری میں 120 کلو خالص سونا، 100 کلو چاندی اور 670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا گیا۔ غلاف کی لمبائی 50 فٹ اور چوڑائی 35 سے 40 فٹ ہے، اس کی تیاری پر تقریباً 60 لاکھ سعودی رال لاگت آئی۔

غلاف کعبہ کے 4 کونوں پر سورہ اخلاص منقش ہے، اس کے علاوہ غلاف پر مختلف آیات قرآنی پر مشتمل 16 پٹیاں الگ سے جوڑی گئی ہیں، قریانی آیات کو سونے، چاندی اور خالص ریشم سے تحریر کیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں غلاف کعبہ کی تیاری کے امور کے لیے علیحدہ محکمہ اور ام الجود بندرگاہ پر اس کا ایک خصوصی کارخانہ قائم ہے، جس میں غلاف کعبہ کی جدید ترین تکنیک کے مطابق تیاری کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔یہ کارخانہ ہر سال بیت اللہ کا ایک نیا غلاف تیار کرتا ہے جسے 9 ذی الحجہ کو پورے تزک و احتشام کے ساتھ خانہ کعبہ کی زینت بنایا جاتا ہے۔
Saudi Arabia expresses worries over brand new scenario in Occupied Kashmir


RIYADH – Saudi Arabia has expressed issues over the modern-day tendencies in Occupied Jammu and Kashmir and has affirmed its stand that warfare need to be settled via non violent manner in accordance with the relevant worldwide resolutions.

An respectable supply at Saudi Arabia’s overseas Ministry stated that it's far following the present day state of affairs in Jammu and Kashmir as a result of India’s abolition of Article 370 of the charter, which guarantees the autonomy of Jammu and Kashmir, the Radio Pakistan mentioned.

It also called on the events worried to keep peace and balance in the area and recollect the interests of the humans of the vicinity.
----------------------------------------

دبئی میں اپنی کار کے پاس نوٹوں کی بارش کرنے والے نوجوان کا انتہائی افسوسناک انجام




دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) چند ہفتے قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی تھی جس میں ایک نوجوان کو سڑک پر اپنی لگژری گاڑی کے پاس کھڑے نوٹوں کی بارش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ویڈیو دبئی میں بنائی گئی تھی اور دبئی پولیس نے اس نوجوان کی شناخت کرکے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق یہ نوجوان ایشیائی باشندہ ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی دولت کی نمائش کر رہا تھا۔دبئی پولیس کے سکیورٹی میڈیاڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل فیصل القاسم کا کہنا تھا کہ ”اس ایشیائی نوجوان نے شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ حرکت کی تھی۔

فیصل القاسم نے اپنے بیان میں شہریوں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کریں اور اس پر ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس کی وجہ سے وہ قانون کی گرفت میں آ جائیں۔






------------------------------------------------




سعودی ولی عہد کا گلوکارہ لنڈسے لوہن کے ساتھ معاشقہ ، شہزادے نے کیا کچھ 

تحفے میں دیا؟ بڑا دعویٰ




نیو یارک ----مغربی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان امریکی گلوکارہ لنڈسے لوہن کی زلفوں کے اسیر ہوچکے ہیں ، گلوکارہ شہزادے کے پرائیویٹ جیٹ میں کئی جگہوں کا سفر کرچکی ہیں۔

لنڈسے لوہن نے 2016 میں اس وقت دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی تھی جب انہوں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تھا، ان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے، لنڈسے لوہن کے اسلام قبول کرنے کی خبروں کو اس وقت تقویت ملی تھی جب انہوں نے انسٹاگرام سے اپنی تمام پوسٹس ڈیلیٹ کردی تھیں۔

پیج سکس نامی ویب سائٹ کے مطابق محمد بن سلمان اور لنڈسے لوہن میں قربتیں بڑھتی جارہی ہیں، شہزادہ گلوکارہ کو اپنے پرائیویٹ جیٹ میں اپنے ساتھ گھماتا ہے اور اس پر تحائف کی بارش کرتا رہتا ہے۔ شہزادے نے گلوکارہ کو ایک کریڈٹ کارڈ کا تحفہ بھی دیا ہے، جب ویب سائٹ نے گلوکارہ کے قریبی حلقوں سے تصدیق کیلئے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

دوسری جانب ویب سائٹ کے رابطہ کرنے پر گلوکارہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کی شہزادے سے گزشتہ برس فارمولا ون کار ریس کے دوران ملاقات ہوئی تھی جو پہلی اور آخری ملاقات ہے، لوہن کو کریڈٹ کارڈ دینے کی خبروں میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔


لنڈسے لوہن کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہ پیغامات بھی دیکھے ہیں جن کا گلوکارہ نے شہزادے کے ساتھ تبادلہ کیا ہے لیکن ترجمان نے ایسے پیغامات دیکھنے کے دعووںکو جھوٹا قرار دیا ہے۔



-------------------------------------------------------------




سعودی عرب نے بے شمار پاکستانی ڈاکٹروں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا






لاہور--
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے پاکستان کے صدیوں پروانے پروگرام ماسٹر آف سرجری اور ڈاکٹر آف میڈیسن کو مسترد کردیا ہے جس کے باعث کئی قابل ڈاکٹرز بے روزگار ہوگئے ہیں جن میں زیادہ ترسعودی عرب میں قیام پذیر تھے ۔


رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ان تمام ڈاکٹرز کو واپس جانے یا ملک بدر کیے جانے کیلئے تیار رہنے کا کہہ دیا ہے ، ان دونوں ڈگریوں کومسترد کرنے کی وجہ سعودی وزارت صحت نے ڈاکٹرز کی تعیناتی کیلئے ضروری سٹرکچرڈ تربیتی پروگرام کی کمی کو قرار دیاہے ۔

قطر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی سعودی عرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان ڈگریوں کو مسترد کرنے کے اقدامات اٹھا لیے ہیں ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر ڈاکٹرز کو سعودی وزارت صحت نے 2016 میں کراچی ،لاہور اور اسلام آباد میں سے انٹرویو کے بعد تعینات کیا تھا ۔

ایک متاثرہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے انہیں شرمندگی ہوئی ہے کیونکہ بالکل اس ہی طرح کے دیگر ممالک کے ڈگری پروگرامز کو، جن میں بھارت، مصر، سوڈان اور بنگلہ دیش شامل ہیں، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں قبول کیا جاتا ہے۔انہیں سعودی کمیشن فور ہیلتھ اسپیشلٹیز (ایس سی ایف ایچ) کی جانب سے جاری کردہ برطرفی کا لیٹر موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ آپ کی پروفیشنل کوالیفکیشن کی درخواست مسترد کردی گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی پاکستان سے حاصل کردہ ماسٹر ڈگری ایس سی ایف ایچ ایس کے قواعد کے مطابق قابل قبول 
نہیں۔

**********************************************************************************               دبئی میں 31 سالہ شخص نے خاتون کو 20 مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا اور         کام کرتا رہا ؟ پھر   کونسا گھناؤنا

عدالت نے سزا سنا دی




دبئی
دبئی کی عدالت نے 31 سالہ شخص کو خاتون کا 20 مرتبہ ریپ کرنے اور کتے کا گوشت کھانے پر مجبور کرنے کے جرم میں قید اور بے دخل کرنے کی سزا سنا دی ہے ۔

خلیج ٹائمز‘ کے مطابق رپورٹ کے مطابق 31 سالہ نائیجیرین جیولر ڈیزائنر پر الزام تھا کہ انہوں نے سربیا سے تعلق رکھنے والی 53 سالہ خاتون کو اپنی رہائش گاہ پر کم سے کم 20 بار ریپ کا نشانہ بنایا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ خاتون اور ملزم کے درمیان سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد جیولر ڈیزائنر نے خاتون کو ملاقات کے لیے ایک ہوٹل پر بلایا۔رپورٹ کے مطابق جیولر ڈیزائنر خاتون سے ملنے کے بعد انہیں زبردستی اپنی رہائش گاہ پر لے گئے، جہاں انہوں نے مذکورہ خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا اور مجموعی طور پر ملزم نے خاتون کو 20 بار ریپ کا نشانہ بنایا۔


متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے انہیں نہ صرف ریپ کا نشانہ بنایا بلکہ ان پر بدترین تشدد کرنے سمیت انہیں کتے کا گوشت کھانے پر بھی مجبور کیا۔متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم نے انہیں گھر میں قید بھی رکھا، تاہم وہ کسی طرح سے وہاں سے بھاگ کر گھر پہنچیں اور پولیس کو اطلاع کردی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کے بعد ملزم کو گرفتار کیا۔خلیج ٹائمز کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرا میں ملزم اور خاتون کو ملزم کے گھر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔عدالت نے شواہد اور پولیس تفتیش کے مطابق ملزم کو ایک سال جیل کی سزا اور بعد ازاں دبئی سے بے دخلی کا حکم دیا۔

Post a Comment