تمہید
پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیجیٹل فن ٹیک (FinTech) کے شعبے میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ اس انقلاب کی پیش رو ‘ایزی پیسہ’ (Easypaisa) اور ‘جائز کیش’ (JazzCash) جیسے برانچ لیس بینکنگ کے پلیٹ فارمز رہے ہیں۔ ان سروسز نے عام اور غیر بینک شدہ آبادی کو صرف چند کلکس میں مالیاتی رسائی فراہم کی۔ اب دور دراز گاؤں کا ایک چھوٹا دکاندار بھی بنا کسی کاغذی کارروائی کے رقم کی منتقلی کر سکتا ہے۔
تاہم، جہاں اس ٹیکنالوجی نے مالیاتی شمولیت اور سہولت میں بے پناہ اضافہ کیا، وہیں اس نے سائبر کرائم، بالخصوص “جعلی رسیدوں (Fake Receipts/Screenshots)” کے ذریعے فراڈ کی ایک خطرناک لہر کو جنم دیا ہے۔ آج کل نوسرباز اور سائبر مجرم جعلی اینڈرائڈ ایپس، ویب جنریٹرز اور فوٹوشاپ کے ذریعے چند سیکنڈز میں جائز کیش یا ایزی پیسہ کی منتقلی کی ایسی زبردست کاپی تیار کر لیتے ہیں جو ظاہری طور پر بالکل اصلی معلوم ہوتی ہے۔
اس کے بعد وہ سادہ لوح تاجروں، آن لائن سیلرز، اور عام شہریوں کو دھوکہ دے کر سامان، خدمات یا نقد رقم حاصل کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم اس بڑھتے ہوئے فتنے، اس کے طریقہ کار، وقتی تصدیق میں حائل رکاوٹوں، اور اس کا سدباب کرنے کے لیے عملی اور تکنیکی تجویزات کاتفصیلی احاطہ کریں گے۔
جعلی رسیدیں کیا ہیں اور یہ کیسے تیار کی جاتی ہیں؟
پہلے زمانے میں متبادل رسیدوں کو بنانے کے لیے فوٹوشاپ یا گرافک ڈیزائننگ سافٹ ویئر استعمال کیے جاتے تھے، جس پر وقت اور مہارت درکار ہوتی تھی۔ لیکن آج کے دور میں یہ کام بے حد آسان اور خودکار ہو چکا ہے۔
۱. جعلی رسید بنانے والی موبائل ایپس (APK Files)
سائبر مجرموں نے ایسی اینڈرائڈ ایپس بنا رکھی ہیں (جو عام طور پر پلے اسٹور پر نہیں بلکہ ٹیلی گرام گروپس، ڈارک ویب یا ایچ ٹی ایم ایل سائٹس پر دستیاب ہوتی ہیں) جو بالکل ایزی پیسہ یا جائز کیش کی موبائل ایپ کی طرح نظر آتی ہیں۔
-
ان ایپس میں صارف کو صرف مندرجہ ذیل معلومات درج کرنی ہوتی ہیں:
-
وصول کنندہ کا نام اور نمبر
-
بھیجنے والے کا نام اور نمبر
-
رقم کی مقدار
-
تاریخ اور وقت
-
جعلی ٹرانزیکشن آئی ڈی (TID)
-
جیسے ہی صارف “Generate” کا بٹن دباتا ہے، ایپ میں من وعن جائز کیش یا ایزی پیسہ کی اصل “Transaction Successful” والی اسکرین نمودار ہو جاتی ہے، جس کا اینیمیشن اور ساؤنڈ ایفیکٹ بھی بالکل اصلی جیسا ہوتا ہے۔
۲. آن لائن HTML جنریٹرز اور بوٹس
ٹیلی گرام اور دیگر ایپس پر ایسے بوٹس موجود ہیں جہاں محض ایک کمانڈ کے ذریعے جائز کیش/ایزی پیسہ کا اسکرین شاٹ منٹوں میں بن جاتا ہے۔ بعض ویب سائٹس پر HTML پیجز بنے ہوتے ہیں جو صارف کے دیے گئے ڈیمو ڈیٹا کو اصل فونٹس اور رنگوں میں ڈال کر رسید تیار کر دیتے ہیں۔
۳. بلک ایس ایم ایس ایسپوفنگ (SMS Spoofing)
سائبر مجرم صرف اسکرین شاٹ پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات ایس ایم ایس اسپیوفنگ گیٹ ویز کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ صارف کے موبائل پر 8558 (جائز کیش) یا 3737 (ایزی پیسہ) کے نام سے ملتا جلتا ایک جعلی ایس ایم ایس بھیج دیتے ہیں تاکہ شکار کا شک بالکل دور ہو جائے۔
سادہ لوح عوام کو لوٹنے کا طریقہ کار (Modus Operandi)
نوسرباز اور ٹھگ ان تکنیکوں کو مختلف طریقوں سے عام شہریوں، دکانداروں اور آن لائن کاروبار کرنے والوں پر آزماتے ہیں۔
۱. خوردہ دکانداروں (Retail Shopkeepers) کو نشانہ بنانا
یہ سب سے عام طریقہ ہے۔ ایک نوسرباز کسی کریانہ، موبائل ریچارج، یا کپڑے کی دکان پر جاتا ہے اور کچھ سامان خریدتا ہے۔ ادائیگی کے وقت وہ کہتا ہے: “بھائی! نقد رقم نہیں ہے، کیا میں ایزی پیسہ/جائز کیش کر دوں؟” دکاندار اپنا نمبر بتاتا ہے۔ نوسرباز اپنے فون پر جعلی ایپ میں معلومات درج کر کے فوری رسید تیار کرتا ہے اور موبائل اسکرین دکاندار کے سامنے کر دیتا ہے۔ چونکہ دکان پر رش ہوتا ہے، اس لیے دکاندار اپنے فون کا بیلنس چیک کیے بغیر صرف رسید پر اپنا نام دیکھ کر مطمئن ہو جاتا ہے اور سامان دے دیتا ہے۔
۲. نقد رقم نکلوائی (Cash-Out Scam)
ایک شخص کسی ایزی پیسہ/جائز کیش ایجنٹ کے پاس جا کر کہتا ہے کہ اسے ایمرجنسی میں 10,000 روپے نقد چاہئیں، اور وہ اپنے اکاؤنٹ سے ایجنٹ کو پیسے بھیج رہا ہے۔ وہ جعلی ایپ میں ایجنٹ کا نمبر ڈال کر ٹرانزیکشن کی رسید دکھا دیتا ہے اور نقد رقم لے کر رفو چکر ہو جاتا ہے۔
۳. ای کامرس اور آن لائن سیلرز کا استحصال
آج کل انسٹاگرام، فیس بک اور او ایل ایکس (OLX) پر ہزاروں نوجوان گھر بیٹھے آن لائن بزنس کر رہے ہیں۔ نوسرباز ان سے مہنگی اشیاء (مثلاً موبائل، لیپ ٹاپ، برانڈڈ کپڑے) خریدنے کا سودا کرتے ہیں۔ وہ واٹس ایپ پر جعلی رسید کا اسکرین شاٹ بھیجتے ہیں اور فوری رائڈر (Rider) کے ذریعے سامان منگوا لیتے ہیں۔ جب تک آن لائن سیلر اپنا بینک اکاؤنٹ چیک کرتا ہے، تب تک مجرم سامان وصول کر کے غائب ہو چکا ہوتا ہے۔
۴. گاڑی کی خریدو فروخت اور فوری ہنگامی صورتحال
بعض اوقات بڑی رقم کی دھوکہ دہی کے لیے جعل ساز گاڑی خریدا یا کوئی ہنگامی واقعہ (مثلاً ہسپتال کا بل) بنا کر فوری رقم بھیجنے کا ڈرامہ کرتے ہیں اور جعلی رسیدیں دکھا کر فائدے اٹھاتے ہیں۔
بر وقت تصدیق (Real-Time Verification) میں درپیش مسائل
اگرچہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ دکاندار یا وصول کنندہ اپنے اکاؤنٹ میں پیسے آئے ہیں یا نہیں، یہ فوراً کیوں چیک نہیں کرتا؟ اس میں کئی عملی اور تکنیکی مسائل حائل ہیں:
